رومانویت سے کیلیفورنیا قتل عام تک

image

تاشفین جنوبی پنجاب کے زرخیزعلاقے لیہ کی تحصیل کروڑ کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئی جو روایتی پابندیوں سے آزاد تھا۔بچپن میں ہی خاندان سعودی عرب کے شہر  جدہ منتقل ہو گیا۔شکل سے حسین تھی اور طبیعت میں چھچھورا پن تھا۔جوانی کا سورج طلوع ہوا تو پاکستانی نوجوانوں کی طرح “عشق آزمائی” شروع کر دی۔تاشفین کا یہ سفر کامیاب تھا۔آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ سے تاشفین کی ملاقات کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پڑھنے والے خوبرو نوجوان رضوان فاروق سے ہوئی۔سوشل میڈیا کی ٹائم گزاری سے رومانویت تک کی  داستان پاکستان نوجوانوں کے لیے ایک نئی خبر نہیں۔پاکستانی نوجوان لڑکے,لڑکیوں کو جب جوانی کی لپٹیں لگتی ہیں تو وہ جیون ساتھی کی تلاش “شریعتی تقاضا” سمجھتے ہیں۔تاشفین بھی کچھ اس طرح ہی سمجھتی تھی۔اپنے تصورات سے تراشا سب سے “آئیڈیل” انسان ,رضوان فاروق سے ملاقات شہر حجاز میں ہوئی جو ہر نیک مسلمان کی طرح “مناسکِ عشق” طے کرنے آیا تھا۔وفاؤں اور محبتوں کا سفر ادھورا تھا۔تاشفین سے ایک سال چھوٹے رضوان فاروق اپنے والدین کی ہمرکابی میں امریکہ روانہ ہوا تو گویا تاشفین سے “مجازی خدا” ہی کسی نے چھین لیا ہو۔تاشفین کی فیملی پاکستان منتقل ہوئی۔تاشفین نے بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں فارمیسی میں گریجوی ایشن کی تعلیم حاصل کی۔پاکستانی یونیورسٹیاں جہاں تعلیم سے زیادہ رومانس ہوتا ہے۔تاشفین کے عشق کی سرخابی کے لیے موزوں جگہ تھی۔
تاشفین کی “خوش قسمتی”تھی کہ اس کے والدین روایتی پاکستانی والدین نہ تھے جو بیٹیوں پہ “پابندیاں” لگا کر “ظلم” ڈھاتے ہیں۔
دونوں خاندان کی باہمی رضامندی سے رضوان فاروق اور تاشفین کی شادی ایک سال قبل ہوئی اور تاشفین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے پریم نگر امریکہ چلی گئی۔چھ مہینے قبل تاشفین کے ہاں چاند سی گڑیا پیدا ہوئی تھی۔
رضوان فاروق پاکستانی نوجوانوں کی طرح عشق کی داستان رقم کرنے کے بعد اپنی آخرت سدھاری کے لیے اسلام کی سربلندی کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔اس تلاش میں سلفی,وہابی علماء کو پڑھنے کا موقع ملا جو ذہنوں میں شدت پسندی کا بیج بوتے ہیں۔آزاد خیال اور خوش رہنے والی تاشفین کی تربیت سعودی عرب کے شدت پسند ماحول میں ہوئی تھی۔ان کے خاوند کے  خیالات میں تبدیلی کوئی اچھنبھے کی بات نہ تھی۔پھر ایک دن ایسا ہوا کہ اس پریم جوڑی نے اپنی چھ ماہ گڑیا کو اپنی دادی کے پاس چھوڑا اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے چودہ معصوم نوجوانوں کی جان لی لی۔

رومانیت سے درندگی کی یہ  داستان ان مذہبی ٹھیکیداروں سے جڑی ہے جو  خلافتِ اسلامیہ کے نام پر شدت پسندی کے بیج بوتے ہیں۔اللہ پاک امتِ رحمت دو عالم ﷺ پر رحم فرمائے۔آمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s