ڈاکٹر قادری صاحب۔۔۔۔۔۔گستاخی معاف

آج ڈاکٹر صاحب امریکہ میں ہے اور ایک کانفرنس میں ” اسلام امن کا دین ہے” کا راگ الاپیں گے۔پچھلے ہفتے محترم انڈیا میں تھے۔ پاکستانی چینلز کو کرکٹ کا بخار تھا تو انڈین میڈیا کو “قادری بخار” تھا۔انڈیا کا ہر چینل انٹرویو لینے آیا۔انڈیا میں منعقدہ صوفی کانفرنس میں 56 اسلامی ممالک کے علماء کے مرکزِ نگاہ تھے۔جب محترم صدارتی خطاب پہ آئے تو شاید موصوف کو وقت کا پتہ نہیں چلا۔دو گھنٹے کے قریب لمبی چوڑی تقریر کر ڈالی۔خیر یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات تھی کہ ڈاکٹر صاحب اور وزیر اطلاعات محترم پرویز رشید کے بقول مولانا کینیڈوی صاحب انجمنِ محفل بنے۔
محترم! کل آپ انڈیا , آج امریکہ اور کل کو آپ ڈنمارک ہونگے۔آپ کو دوڑ دھوپ کا یہ بخار کب اترے گا, یہ آپ ہی بتا سکتے ہیں۔شاید آپ بھول گئے ہوں لیکن سچ بات یہ ہے کہ آپ کے دوڑ دھوپ کے بخار کے پیچھے جھنگ کے سڑکوں پہ تیز تیز سائیکل چلاتا بچہ ہے۔
محترم۔ شاید آپ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے وہ واحد لیڈر ہیں,جو سڑکوں کی دھول چاٹ کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔آپ کا حسنِ انتظام (Management Skills) کا ایک زمانہ معترف ہے۔جب آپ لانگ مارچ اور دھرنا دیتے ہیں تو توڑ پھوڑ تو کجا , درخت کا پتہ کوئی نہیں توڑتا۔
محترم! آپ نے 1980 میں تحریک بنائی تو آپ نے اسلامک بلاک اور اسلاک بینک کا خواب دکھایا۔پاکستان کے غریب باسیوں کو انقلاب کی نوید سنائی۔اسی خواب کی چاہت میں اسلام آباد جیسی مقدس زمیں پہ لشکر کشی بھی کی۔لیکن محترم نواز شریف کی ہوش ربا قیادت نے آپ کے عزائم پہ پانی پھیر دیا۔
محترم! آج 23 مارچ ہے۔وہ عظیم دن جب بر صغیر کے مسلمان شہباز شریف صاحب کے شہر لاہور جمع ہوئے تھے اور جناح سے مساوات و انصاف پہ مبنی اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ لے کر گھروں کو لوٹے تھے.
اسلام کا پر امن چہرہ کا نمائندہ بننے کا شکریہ۔اسلام کی چودہ صدیوں میں سیرتِ رسول صلی االلہ علیہ وسلم پہ 14 کتابیں لکھ کر ریکارڈ بنانے کا شکریہ۔ دنیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کا ڈھنڈورا پیٹ کر آئینی انقلاب کا نعرہ لگانے کا شکریہ,پر امن انقلابی جدوجہد کرنے کا شکریہ,موجودہ دور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قرانِ پاک کا سائنسی اور عصری تقاضوں کے مطابق ترجمہ کرنے کا شکریہ۔قانون,عمرانیات, عصریات ,سیاسیات,انسانیات اور سائنس کے موضوعات پہ 1000 کتابیں لکھنے اور تابڑ توڑ لیکچرز دینے کا شکریہ۔
قادری صاحب۔علم و تحقیق کا بہت کام کر لیا۔آئیں۔اپنے دیس کا قرض چکائیں. ورنہ ” شرفاء” اتنے مضبوط ہو جائیں گے کہ ان کو ہٹایا نہیں جا سکے گا۔
میں نے نصیحت کردی ۔آگے آپ کی عقل اور فہم و فراست۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s